Dopamine Nation Book By Dr. Anna Lembke Review By Nida Ishaque Part 1

Book Name: Dopamine Nation

Author: Dr. Anna Lembke

Review By: Nida Ishaque

ڈوپامین نیشن”

یہ ایک بہت ہی ضروری کتاب ہے، ہمارا دماغ ہی وہ اوزار ہے جس کے ذریعے ہم خود کو اور دنیا کو دیکھتے ہیں۔ اس کی ساخت اور اسکے کام کرنے کے طریقے کو سمجھنا نہایت اہم ہے۔ دماغ کی سائنس(neuroscience) نے پچھلے کئی سالوں میں بہت ترقی کی ہے جس سے کئی روایتی باتوں کا بھید کھلا ہے۔ اس کتاب میں لت (addiction) اور اسکا دماغ پر اثر بیان کیا گیا ہے

Dopamine Nation Book By Dr. Anna Lembke Review
Dopamine Nation Book By Dr. Anna Lembke Review

اس میں انزائٹی کا بھی ذکر ہے۔ چونکہ کتاب لکھنے والی اینا-لمبکی سائیکاٹرسٹ اور اسٹین فارڈ یونیورسٹی کی لت سے منسلک کلینک (addiction clinic) کی سربراہ ہیں تبھی ان کے پاس آنے والے افراد جن کا کتاب میں ذکر کیا گیا ہے وہ زیادہ تر امیر اور پڑھے لکھے لوگ ہیں، مثلاً کمپیوٹر سائنسدان، سرجن اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ۔ لیکن اینا نے غربت اور اس سے منسلک مختلف لت کا شکار ہونے کا بھی کتاب میں ذکر کیا ہے۔ اور جو بات مجھے اینا کی اچھی لگی وہ یہ کہ انہوں نے اپنی ذاتی زندگی میں لت اور اس لت سے جان چھڑانے کے سفر کو بھی کتاب میں بیان کیا ہے، جو یقیناً ہمت کا کام ہے۔ کتاب میں بیشک بہت انفارمیشن ہے جس میں سے کچھ آسان الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کروں گی۔

Read Also: Dair Tak Baithe Hove Donoon ne Barish Dekhi Gulzar Poetry

انسان نے بہت وقت تنگی اور افلاس (scarcity) میں گزارا ہے، لیکن اچانک سائنس نامی ایک جادو کا چراغ ہاتھ لگ جانے کے بعد انسان کا تو جیسے اسٹیٹس ہی تبدیل ہوگیا۔ وہ بھوک اور افلاس کی دنیا سے ایسی دنیا میں آگیا جہاں اب فراوانی (abundance) ہے۔ انسان نے سوچا کہ فراوانی آجانے سے اس کے مسئلے حل ہوجائیں گے لیکن ہمیشہ کی طرح مستقبل کی پیشن گوئی میں ہم ناکام ہی رہے ہیں، اس فراوانی کے اگر فوائد ہوئے تو نقصانات بھی ناقابلِ تلافی ہیں۔

۔ ہم وقت میں پیچھے کی جانب نہیں جاسکتے، ہمیں اب چاہ کر بھی اس فراوانی کو اس سے پیدا ہونے والے مسائل کو الٹ نہیں سکتے لیکن اس سے نمٹنے کے مختلف طریقے ضرور ڈھونڈ سکتے ہیں۔ کسی وقت میں تفریح کے لیے لوگ ترس جاتے، آج نظر دوڑائیں تو ہر جگہ تفریح ہی تفریح ہے۔ اور اس تفریح اور پلیژر سے بھری دنیا میں آپ اپنے افکار میں اعتدال کیسے برقرار رکھ سکتے ہیں یہ آپ کو ڈاکٹر اینا-لمبکی بتاتی ہیں جو اس کتاب “ڈوپامین نیشن” کی لکھاری میں۔

درد-پلیژر کی نیوروسائنس اور ڈوپامین

لفظ “ڈوپامین” آج کل بہت ٹرینڈنگ میں ہے۔ یہ ڈوپامین کیا ہے؟؟

ڈوپامین دماغ میں خارج ہونے والے بہت سارے کیمیکل جنکا کام آپ کو پلیژر دینا ہے، میں سب سے اہم ہارمون ہے، اسے “خوشی کا ہارمون” بھی کہتے ہیں۔ یہ مزہ دیتا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ “مزہ آخر سزا میں کب اور کیوں تبدیل ہوجاتا ہے”؟؟ ہم لت میں کیوں مبتلا ہوتے ہیں؟؟ آئیے اس لت کو سمجھنے کے لیے دماغ کے سسٹم “ہومیو سٹیسس” کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

آپ سب نے سنا ہوگا کہ کائنات میں ہر چیز خود کو توازن میں لے کر آتی ہے، اور یہی نظام فطرت نے ہمارے دماغ میں بھی تشکیل دیا ہے۔ ڈاکٹر اینا کہتی ہیں یوں تصور کیجیے کہ ہمارے دماغ میں ایک ترازو ہے جس پر ایک طرف پلیژر تو دوسری جانب درد موجود ہے اور یہ ترازو ہمیشہ خود کو توازن میں لانے کی کوشش کرتا ہے اور اس عمل کو “ہومیوسٹیسس” کہتے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر لت کیسے پڑتی ہے اور توازن کہاں بگڑتا ہے؟؟

Dopamine Nation Book By Dr. Anna Lembke Review Nida Ishaque
Dopamine Nation Book By Dr. Anna Lembke Review Nida Ishaque

جب آپ کوئی پلیژر والا تجربہ کرتے ہیں تو ترازو میں پلیژر والا کانٹا بھاری ہوجاتا ہے، اب چونکہ توازن لانا ہے تو اب وقت ہوا چاہتا ہے درد کو برداشت کرنے کا، لیکن مسئلہ وہاں جنم لیتا ہے جب آپ درد کو توازن میں آنے ہی نہیں دیتے اور اس سے بھاگنے کے لیے مسلسل پلیژر کو حاصل کیے جاتے ہیں۔ مسلسل پلیژر لینے پر اس مخصوص چیز سے ایک وقت میں پلیژر ملنا بند ہوجاتا ہے جسے ڈاکٹر اینا “نیورو-ایڈ پیٹیشن” کہتی ہیں، مطلب کہ وقت کے ساتھ وہ شے جس سے آپ پلیژر حاصل کرتے رہے ہیں اسکا پلیژر کم ہوتا جائے گا اور پلیژر محسوس کرنے کے لیے اب اس شے کی زیادہ سے زیادہ مقدار لینی پڑے گی، اس سے آپ کی درد والی سائیڈ اور بھی زیادہ تکلیف دینے لگے گی(جس طرح تصویر میں دکھایا گیا ہے)، یہی وہ حالت ہوتی ہے جب آپ نہ صرف لت میں مبتلا ہوتے ہیں بلکہ اب آپ کو لت بہت زیادہ تکلیف دینے لگتی ہے کیونکہ اب لت آپ کے کیریئر، رشتوں ، اخلاقیات اور صحت کے بیچ آکر نقصان پہنچا رہی ہے (حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیں نشئی یا لت کا شکار انسان اچھا نہیں لگتا، صحت کی جانب مائل ہونا بھی ہم انسانوں کی فطرت ہے)۔

یہ تو تھا ڈوپامین کا تعارف، اب آتے ہیں لت کو حل کرنے کے لیے مناسب اقدامات پر۔ کتاب میں کئی سائنسی تجربات اور مثالیں دی گئی ہیں لیکن میں چند لفظوں میں سرسری وضاحت کرنا چاہوں گی۔

ڈ سے ڈیٹا

کسی وقت میں تفریح کے مواقع بہت نایاب ہوتے تھے لیکن آج کی دنیا تفریح اور پلیژر سے بھرپور ہے، اینا کہتی ہیں کہ سب سے پہلے اپنی لت سے متعلق ڈیٹا اکھٹا کرنا ضروری ہے، یعنی کہ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کسی چیز یا حرکت کی لت میں مبتلا ہیں تو غور کریں کہ اسکا کتنا اور کتنی دفعہ استعمال کرتے ہیں، کہیں وہ چیز یا حرکت آپ کے کیرئیر، صحت، معاشی حالات یا رشتوں کو متاثر تو نہیں کررہی۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر اینا کو جب محسوس ہوا کہ انکے رومانوی ناول پڑھنے کی عادت لت میں بدل چکی ہے جب مطالعہ سے انکی رات میں نیندین اور دن میں بہت سے کام ادھورے رہنے لگے کیونکہ گھنٹوں ناولز پڑھنے میں لگ جاتے تھے۔

او سے اوبجیکٹوو مقصد

ہماری ہر لت کے پیچھے کچھ جذبات یا وجوہات ہوتے ہیں، کوئی مقاصد ہوتے ہیں۔ آپ کی لت کی چیز آپ کو کس طرح سے مدد دیتا ہے؟ اینا کہتی ہیں کہ لوگ زیادہ ڈوپامین والی اشیاء یا تجربوں کا استعمال عموماً تکلیف دہ یا بے آرام کردینے والے جذبات یعنی بوریت، احساس کمتری، انزائٹی، ڈپریشن، غصہ، سماجی فوبیا وغیرہ کو کم کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر اینا اپنی مثال دے کے کہتی ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی کے اس حصے میں ناولز کو فرار کی طرح استعمال کیا جب انکے بچے ٹین ایج میں چلے گئے اور یوں بچوں کے رویے اور نئے مسائل سے فرار ڈھونڈنے کے لیے وہ ناولوں میں کھو جاتیں۔

Read Also: Wah Wah Subhaan Allah Ghazal By Hazrat Bedam Shah Warsi

پی سے پرابلمز مسائل

ڈاکٹر اینا اپنی ایک نوجوان ٹین ایجر مریضہ سے جسے اس کے والدین اسکی انزائٹی کی وجہ سے لے کر آئے تھے، پوچھتی ہیں کہ بہت زیادہ چرس پینے سے تمہیں کیا مسائل درپیش ہیں؟ لڑکی جواب دیتی ہے ‘بس میرے والدین مجھ سے اکثر الجھتے رہتے ہیں اور کوئی مسئلہ نہیں’۔ ڈاکٹر اینا کہتی ہیں انہوں نے نوجوان لڑکی کی جانب دیکھا جو حد سے زیادہ چرس پینے کے باوجود بظاہر بلکل نارمل دِکھ رہی تھی، اور کہتی ہیں کہ بیشک جوانی ہر عیب اور بیماری پر پردہ ڈال دیتی ہے، جبکہ مڈل ایج والے مریض اس ٹین ایجر لڑکی کی مانند تروتازہ نہیں ہوتے اور اکثر یہی کہتے ہیں کہ وہ اپنی لت اور اپنے آپ سے تھک چکے ہیں۔ زیادہ ڈوپامین والے ڈرگز ہمیشہ نقصان کی جانب لے کر جاتے ہیں……رشتوں، صحت اور اخلاقیات میں مسئلوں کی جانب۔

بہت زیادہ مقدار میں ڈوپامین لینے سے ذہن آنے والے مسائل کو دیکھنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے جس سے ہم لت سے ہونے والے مسائل کو دیکھ نہیں پاتے۔ مثال کے طور پر روز ایک ڈونٹ کھانا ہمیں اس لمحے میں پلیژر دیتا ہے لیکن ہم یہ نہیں دیکھ پارہے ہوتے کہ روز زیادہ مقدار میں میٹھا کھانے سے ہم اپنی کمر کے گرد ہر مہینہ پانچ پاؤنڈ کی چربی چڑھا رہے ہوتے ہیں۔ ہمیں اپنے بچوں کو اور خود کو ان مسائل کو دکھانا ہوگا جو ہمارے ڈوپامین کی زیادتی سے گزرتے وقت کے ساتھ اپنا اثر دکھانا شروع کرتے ہیں۔

اے (A) سے (Abstinence) پرہیز/اجتناب

“میرے پاس ایک آئیڈیا ہے، عمل کرنا بہت مشکل ہوگا لیکن یوں میں تمہارا علاج بہتر طور پر کر پاؤں گی، کیوں نہ تم ایک مہینے کے لیے کینابس پینا چھوڑ دو”، ڈاکٹر اینا نے ٹین ایجر لڑکی سے کہا، جس پر لڑکی نے ڈاکٹر کو حیرانگی سے دیکھا۔ ڈاکٹر اینا نے کہا “ کینابس چھوڑے بغیر انزائٹی کا علاج کرنا ممکن نہیں”، بہت ممکن ہے کہ کینابس کو چھوڑنے پر ایک مہینے میں تمہاری انزائٹی خود بخود ٹھیک ہوجائے گی، اینا نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم انزائٹی کو ختم کرنے کے لیے ایسی چیزوں کا استعمال کرتے ہیں جن سے بڑی مقدار میں ڈوپامین خارج ہوتا ہے تو ایسی اشیاء ہمارے دماغ کی بیس-لائن انزائٹی کو تبدیل کردیتی ہیں، اب بہت ممکن ہے کہ آپ کو جو انزائٹی محسوس ہو وہ کینابس کے اثر کے ختم ہونے کی انزائٹی ہو نہ کہ فطری انزائٹی۔

بلکل ویسے جیسے کسی مخصوص نشے کی لت ہونے کے بعد ہمیں وہ نشہ اپنی انزائٹی کو کم کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس نشے کا اثر کم ہونے پر اس کی وجہ سے ہونے والی انزائٹی کو کم کرنے کے لیے وہ خاص نشہ چاہیے ہوتا ہے، یہ کبھی نہ ختم ہونے والا چکر ہے، جسے ختم کرنے کے لیے اس ڈرگز سے مکمل پرہیز ضروری ہے۔

ڈاکٹر اینا نے لڑکی سے کہا کہ آج سے دس سال بعد بھی تم خود کو کینابس پیتے ہوئے دیکھتی ہو؟؟ لڑکی نے جواب دیا کہ ‘نہیں! دس سال بہت زیادہ ہیں’, ڈاکٹر نے کہا کہ پھر پانچ سال؟، جواب ملا ‘بلکل بھی نہیں’ میں اسے جلد ہی چھوڑ دوں گی، ڈاکٹر نے کہا ‘جب چھوڑنا ہی ہے تو پھر ابھی کیوں نہیں؟؟، لڑکی نے جواب دیا “آپ شاید ٹھیک کہہ رہی ہیں جب میں اسے مستقبل میں جاری نہیں رکھنا چاہتی تو ابھی سے کیوں نہیں چھوڑ دیتی”، میں ایک مہینے کے لیے کینابس کے بغیر رہ کر دیکھوں گی۔

ایم سے مائینڈ فلنس

ڈاکٹر اینا کہتی ہیں کہ لفظ مائینڈفلنس سدھارت گوتم کی تکنیک مائینڈفلنس میڈیٹیشن سے آیا ہے جسے اس وقت مغرب میں بہت پذیرائی ملی ہے، مغرب میں بچوں کو اسکولوں میں بھی اس تصور اور اس سے جڑی پریکٹس سے آگاہ کیا جارہا ہے۔ ہمارا دماغ صلاحیت رکھتا ہے بہت عجیب و غریب قسم کی باتیں سوچنے اور تصور کرنے کی، کبھی کبھار ذہن میں ایسے خیالات بھی آتے ہیں کہ خود سے نفرت سی ہونے لگتی ہے کہ آخر میں یہ کیا سوچ رہا ہوں، اتنا گھٹیا/ظالم/فضول انسان کیسے ہوسکتا ہوں میں؟؟ مائینڈ فلنس آپ کو ان تمام سوچوں کا مشاہدہ کرنا سکھاتا ہے بنا خود کو برا بھلا کہے یا لیبل لگائے۔

جب اپنی لت سے ملنے والی ڈوپامین سے پرہیز کریں گے تو تکلیف اپنی حدوں کو پار کرنے لگے گی، اس وقت آپ نے اس نشے کو کسی اور نشے سے تبدیل نہیں کرنا بلکہ اپنے درد اور تکلیف کے ساتھ بیٹھ کر اسکا مشاہدہ کرنا ہے اسے برداشت کرنا ہے، یہ آسان کام ہرگز نہیں۔

آئی سے انسائٹس بصیرت

وہی نوجوان لڑکی ڈاکٹر اینا کے پاس ایک ماہ بعد آئی، اور کہنے لگی کہ “ڈاکٹر میری انزائٹی ختم ہوگئی، شروع کا پہلا ہفتہ بہت ہی برا تھا، الفاظ نہیں بیان کرنے کے لیے کہ کتنی تکلیف ہوئی، لیکن مجھے احساس ہوا کہ مجھے واقعی کینابس کی شدید لت تھی اور مجھے اس بات کا اندازہ نہیں تھا۔ کینابس چھوڑنے کے بعد میری سوچ صاف اور واضح ہوگئی ہے، مجھے اپنے رویے پر مزید غور کرنے کا موقع ملا ہے”۔

ڈاکٹر اینا کہتی ہیں کہ بہت ہی سادہ طریقہ یعنی اپنی لت کو خود سے دور کرنا اور اس سے پرہیز کرنا آپ کی لت کو ختم کرسکتا ہے آپ کو مزید واضح سوچ فراہم کرسکتا ہے، لیکن یہ آسان تو ہرگز نہیں پر اس سے بہتر کوئی علاج نہیں۔

این سے نیکسٹ سٹیپ اگلا قدم

الکوحلک اینانیمس کے نام سے ایک پروگرام ہے جو الکوحل کی لت سے چھٹکارا دینے میں مدد فراہم کرتا ہے، انکا ماننا ہے کہ الکوحل سے بلکل پرہیز واحد علاج ہے۔ جبکہ ڈاکٹر اینا کہتی ہیں کہ انکے تجربے کے مطابق ان کے بہت سے مریض کچھ عرصے بعد واپس اپنی ڈرگز(یا جس چیز کی ان کو لت ہو) لینا شروع کردیتے ہیں لیکن بہت کنٹرول انداز میں، وہ اسے بہت کبھی کبھی استعمال کرتے ہیں، بہت ہی کم ایسے لوگ ہیں جو مکمل طور پر چھوڑ پاتے ہیں۔ ڈاکٹر اینا نے اسی نوجوان لڑکی سے پوچھا کہ اب اسکا اگلا قدم کیا ہے؟ اس نے جواب دیا “میں بہت اچھا محسوس کررہی ہوں لیکن میں کینابس سے ملنے والا کریٹو احساس اور کچھ دیر کے اس فرار کی کمی محسوس کررہی ہوں، میں دوبارہ استعمال کروں گی کینابس لیکن اس طرح نہیں جس طرح پہلے کرتی تھی، لت کی مانند نہیں بلکہ ایک ہلکی پھلکی تفریح کی مانند۔

اسکی مثال آپ سوشل میڈیا بھی لے سکتے ہیں، ہمیں مکمل طور پر سوشل میڈیا چھوڑنے کی ضرورت نہیں بلکہ ہم اس کے استعمال کو کنٹرول میں لاکر لت والے معاملے سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ البتہ کچھ نشے ایسے ہوتے ہیں جن سے مکمل پرہیز ہی واحد حل ہوتا ہے، اس بات پر منحصر ہے کہ لت اور جس چیز کی لت آپ کو ہے وہ کس حس تک خطرناک ہیں۔

ای سے ایکسپریمنٹ تجربہ

ڈاکٹر اینا کہتی ہیں کہ ڈوپامین سے پرہیز کے بعد اب جب مریض واپس نارمل کی جانب جاتے ہیں تو اب انکی سوچ لت کی جانب تبدیل ہو چکی ہوتی ہے، چاہے آپ ہمیشہ کے لیے پرہیز کرنا چاہیں یا اس نوجوان لڑکی کی مانند کبھی کبھار اپنا نشہ کرنے کا فیصلہ کریں ، آپ کو دراصل مختلف تجربات سے گزرنا ہوتا ہے، مطلب یہ کہ واپس کبھی کبھار کے چکر میں آپ پھر سے اسی طرح پرانی والی لت میں مبتلا ہوگئے تو؟ اسکا مطلب ہے کہ آپ کو مکمل پرہیز کرنا ہے، کیونکہ اس میں جینیات کا بھی تعلق ہوتا ہے، کچھ لوگوں میں لت میں مبتلا ہونے کے جینز موجود ہوتے ہیں، آپ کئی بار غلطیاں کرکے تجربہ سے معلوم کرتے ہیں کہ آپ کے لیے کیا صحیح ہے اور کیا نہیں۔

ڈاکٹر اینا “جسمانی خود پابندی” کو ماڈرن دنیا میں ضروری قرار دہتی ہیں، خود کو لت سے بچانے والی ایپز سے لے کر زیادہ کھانا نہ کھانے کے لیے میدہ چھوٹا کرنے کی سرجری تک انسان ڈوپامین سے بھری اس دنیا میں خود پر پابندیاں لگانے کے مختلف طریقے ایجاد کررہا ہے۔ جنک فوڈ، موبائل فون، ٹی وی دیکھنا یہ سب کبھی بھی نارمل سے لت کے زمرے میں داخل ہوسکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ خود پر پابندی لگائیں، وہ جگہ جہاں سے آپ کو آپکی لت والی چیز آسانی سے میسر ہو اس پر پابندی لگانا ضروری ہے، ڈاکٹر اینا اپنی مثال دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ جب انہوں نے ایمازون کنڈل خریدا تھا تب انکو ناولز اور بھی آسانی سے میسر تھے جس کی وجہ سے وہ گھنٹوں ناول پڑھنے میں صرف کرتی تھیں، پہلی فرصت میں انہوں نے ای-ریڈر کو بیچا، چونکہ اسٹور جاکر کتابیں خریدنا ایک تھکا دینے والا عمل ہے تبھی وہ چاہ کر بھی اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر اسٹور نہیں جا پاتی تھیں۔

آج کی دنیا میں تقریباً ہر لت میں مبتلا کرنے والی چیز بہت آسانی سے میسر ہے اور یہی آسانی ہمارے لیے عذاب بن چکی ہے۔ آپ دنیا کو یا سرمایہ داروں کو نہیں روک سکتے آپ کو لت میں مبتلا کرکے منافع بنانے کے لیے، اگر آپ کو خود سے محبت ہے اور آپ سرمایہ دارانہ نظام کو مات دینا چاہتے ہیں تو سرمایہ دار کے لیے تجربہ کا سامان نہ بنیں، ایک عام انسان پاور والوں کے لیے لیباریٹری میں موجود کسی جانور (چوہے، مینڈک، بندر) کی مانند ہے۔ خود پر پابندیاں لگائیں، سرمایہ دار کو یا دنیا کو آپ کی صحت مندی کی کوئی پرواہ نہیں، یہ پرواہ آپ کو خود کرنی ہے اور سرمایہ دار کے خلاف یہ سب سے بہترین احتجاج ہوسکتا ہے۔ کتاب میں بہت سی مثالیں (سیکس کی لت، الکوحل کی لت، موبائل کی لت، فینٹسی کی لت، نشے کی لت) موجود ہیں اور بہت سی ریسرچ بھی موجود ہیں۔

Next Story: Muraaqba Meditation Kiya Hai